Universal News Network
The Universal News Network

وفاق ہو یا صوبائی حکومتیں، کسی کے کام میں شفافیت نہیں: چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کورونا وائرس پر حکومتی اقدامات سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔

6

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے جس میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین شامل ہیں۔

سماعت کے دوران چاروں صوبوں اور وزرات صحت کی رپورٹس عدالت میں جمع کروائی گئیں جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا جواب کہاں ہے؟

سماعت کے سلسلے میں وفاقی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل خالد جاوید عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے بتایا کہ وزارت صحت اور این ڈی ایم اے نے الگ الگ جواب دیے ہیں۔

وفاق حکومت کو زکوٰۃ فنڈ کا آڈٹ کروانا چاہیے: چیف جسٹس
جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ محکمہ زکوٰۃ نے بھی کوئی معلومات نہیں دی، محکمہ زکوٰۃ کے جواب میں صرف قانون بتایا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے جواب دیا کہ وفاقی حکومت زکوٰۃ فنڈ صوبوں کو دیتی ہے لیکن صوبائی حکومتیں زکوٰۃ مستحقین تک نہیں پہنچاتیں اور زکٰوۃ کا بڑا حصہ تو انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے۔

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق وفاق نے 9 ارب سے زائد زکوٰۃ جمع کی، مستحقین تک رقم کیسے جاتی ہے اس کا کچھ نہیں بتایا گیا اس لیے وفاق حکومت کو زکوٰۃ فنڈ کا آڈٹ کروانا چاہیے کیونکہ زکوٰۃ فنڈ کے آڈٹ سے صوبائی خودمختاری متاثر نہیں ہو گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.