Universal News Network
The Universal News Network

نوازشریف کیس پربیان؛ ہائیکورٹ کی جانب سے وفاقی وزیرغلام سرورخان کوبھی توہین عدالت کا شوکاز نوٹس

31

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور حکومت میں ڈیل سے متعلق بیان دینے پرغلام سرورخان کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ غلام سرورخان کی جانب سے کہا گیا کہ نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ میں ردوبدل کیا گیا اور ان کی رہائی ڈیل کے ذریعے ہوئی ہے، وفاقی وزیر نے ایسے بیانات دیے حالانکہ نواز شریف کی اپیل عدالت کے سامنے زیرالتواء ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی وزیریہ کیسے کہہ سکتا ہے۔

عدالت نے فردوس عاشق اعوان کو روسٹرم پربلا لیا اوراستفسار کیا کہ ڈیل کے حوالے سے جو بھی بات ہے حکومت اس کا جواب دے گی، حکومت نے خود میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا جبکہ وزرا کے ایسے بیانات بہت خطرناک ہیں، اگر وفاقی کابینہ کے ارکان ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیں گے تواس کے کیا اثرات ہوں گے، وہ ایسی بات نہیں کرسکتے، اگر وفاقی وزراء یہ کہیں گے تو پورے سسٹم پرعدم اعتماد ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.