Universal News Network
The Universal News Network

میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں علی ظفر نے گلوکارہ کے میسجز اور اپنے ساتھ تمام تصاویر عدالت میں پیش کردیں

8

سیشن کورٹ لاہور میں علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ و ماڈل میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں علی ظفر نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کیا۔
علی ظفر میشا شفیع کے واٹس ایپ مسیجز اور تمام تصاویر عدالت میں پیش کیں۔

گلوکار کا کہنا تھا کہ میشا شفیع ہراسگی الزامات کے بعد بھی میرے ساتھ تصویریں سوشل میڈیا پر شئیر کرتی رہیں، 2015 کے الزامات کے باجود میشا شفیع کے خاوند میرے ساتھ کام کرتے رہے، اور ان کے شوہر نے میرے ساتھ مارشل آرٹ ٹریننگ میں بھی حصہ لیا۔

علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ مجھ پر الزمات لگانے کے لیے جعلی اکاؤنٹس کا سہارا بھی لیا گیا، ان جعلی اکاؤنٹس کا تعلق میشا اور ان کے نمائندہ سے ہی ہے۔

سوشل میڈیا پر مختلف اکاؤنٹس کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایک اکاؤنٹ سے خاتون نے کہا کہ میں نے اُسے اے لیول میں ہراساں کیا، میں نے تو اے لیول کیا نہیں، علی ظفر نے اپنی انٹر کی سند عدالت میں جمع کرائی۔

علی ظفر کے مطابق ایک اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ امریکا میں بیک اسٹیج ہراساں کیا، متعلقہ خاتون نے ٹویٹ میں بتایا کہ وہاں کوئی بیک اسٹیج تھا ہی نہیں۔
واضح رہے کہ میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراساں کیے جانے کے الزام کے بعد علی ظفر نے گلوکارہ پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد گزشتہ 8 ماہ سے کررہے ہیں۔

گزشتہ سماعتوں کے دوران 9 گواہ پہلے ہی علی ظفر کے حق میں عدالت میں بیان جمع کرواچکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.