Universal News Network
The Universal News Network

عام انتخابات کاایک سال مکمل، روپیہ 30 فیصد گر گیا، مہنگائی 9 فیصد بڑھ گئی

20

کراچی: (یو این این ) عمران خان کو اقتدار میں لانے کا باعث بننے والے عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ عمران خان کو لوگوں کے بڑھتے غم وغصے کا سامنا ہے جو کہ ایک مبہم ہدف کے پیچھے ہیں کہ لڑکھڑاتی معیشت کی سمت کیسے درست کی جائے۔

پاکستان کو عام انتخابات سے قبل ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا رہا ہے۔ مبصرین خبردار کر چکے تھے کہ نئی حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
اپنے ابتدائی خطابات میں عمران خان نے کئی مرتبہ ووٹروں کو یقین دہائی کرائی کہ وہ پریشان نہ ہوں، مگر تب سے روپے کی قدر 30 فیصد تک گر گئی، افراط زر میں 9فیصد اضافہ ہوا جس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

کراچی کی شمع پروین نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ٹماٹروں کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے، زندگی بہت مشکل ہو چکی ہے۔ مہندی فروش اشرف نے کہا کہ اسے اخراجات پورے کرنے کیلئے روزانہ ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے، ان دنوں وہ بمشکل پانچ سے چھ سو روپے کماتے ہیں، اگر خدانخواستہ وہ بیمار پڑ جائیں تو علاج کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔

پاکستان کی آبادی شرح نمو کی نسبت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مبصرین خبردار کر چکے ہیں کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا پیکج منظور ہونے کے بعد بھی ملک کو کوئی عارضی ریلیف نہیں مل سکے گا۔ آئی ایم ایف سے قبل عمران خان حکومت دوست ملکوں چین اور سعودی عرب سے بھی اربوں ڈالر کے قرضے لے چکی ہے۔ پاکستانی اس وقت بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ رواں ماہ تاجروں نے ایک روزہ ہڑتال کی، جمعہ کو راولپنڈی میں آٹھ ہزار سے زائد افراد نے مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں 32 سالہ گریجویٹ ایاز احمد نے کہا کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ حکمران ہر گزرتے دن کیساتھ ملک کو غریب تر بنا رہے ہیں۔
عمران خان حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر آج اپوزیشن پارٹیاں بڑے پیمانے پر مظاہرے کر رہی ہیں۔ ادھر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں عمران خان کے وعدوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

کراچی کے دکاندار نسیم اختر نے کہا کہ ایک دن کی کمائی گنوانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ کراچی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اصغر علی کے مطابق آئندہ دنوں میں 80 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی کرپشن کے خلاف مہم کو تباہ کن قرار دیا جس میں اپوزیشن رہنما جیل جبکہ تاجر ہراساں ہو رہے ہیں۔ چیئرمین ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ شاہد حسن صدیقی نے موجودہ صورتحال کو 1998ء سے بدتر قرار دیا، جب نیوکلیئر تجربات کے بعد پاکستان عالمی پابندیوں کی زد میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایک مسئلہ ہے، پاکستان کی محض ایک فیصد آبادی ٹیکس ادا کرتی ہے۔ عمران خان حکومت ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ حکام کی متعارف کرائی گئی حالیہ سکیمیں نتائج دے پائیں گی؟ عمران خان حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں امیر طبقے کو ڈیڑھ فیصد ٹیکس ادا کر کے کالا دھن سفید کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے برعکس ہر غریب اشیائے ضرورت کی خریداری پر 17 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرتا ہے۔

کالم نگار محمد حنیف کے مطابق ان ٹیکسوں سے بننے والے ہسپتالوں اور سکولوں میں غریبوں کو بہت کم جانے کا موقع ملتا ہے۔ اے کے ڈی سکیورٹیز کے عمر فاروق نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں بڑی حد تک معمولی ہیں، تاہم حکومت کیلئے حقیقی چیلنج ان پر عمل درآمد ہے۔

دوسری جانب ملک میں مایوسی بڑھ رہی ہے ۔ کراچی کے سبزی فروش محمد عمران نے کہا کہ وہ اپنے قرضے ادا نہیں کر سکتا، لگتا ہے کہ ایک دن اسے خود کشی کرنا پڑے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.