Universal News Network
The Universal News Network

جج مبینہ ویڈیو سکینڈل کا فیصلہ جاری، تمام درخواستیں خارج

41

سپریم کورٹ نے جج مبینہ ویڈیو سکینڈل کیس کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستیں خارج کردیں۔ فیصلے میں کہا گیا سپریم کورٹ ویڈیو اور اس کے اثرات کے حوالے سے متعلقہ فورم نہیں۔

25 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس کا تحریر کردہ ہے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، ایف آئی اے ویڈیو سکینڈل کی پہلے ہی تحقیقات کر رہا ہے، اس مرحلے پر ہمارا مداخلت کرنا مناسب نہیں ہو گا، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا ماضی مشکوک رہا، انہوں نے اپنے پریس ریلیز اور بیان حلفی میں اعتراف کیا، جج ارشد ملک اپنے ماضی کی وجہ سے بلیک میل ہوتا رہا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ارشد ملک مجرموں اور ان کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کرتا رہا، ان کے کردار سے اعلیٰ عدلیہ کا سر شرم سے جھک گیا، ارشد ملک کی خدمات واپس نہ کرنے سے محکمانہ کارروائی نہ ہوسکی، اٹارنی جنرل نے ارشد ملک کو لاہور ہائیکورٹ واپس بھجوانے کا یقین دلایا، توقع ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں ارشد ملک کیخلاف انضباطی کارروائی ہوگی۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا یہ وہ موقع نہیں جہاں ویڈیو سے متعلق عدالت مداخلت کرے، ویڈیو سے متعلق فوجداری اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، کوئی عدالت کمیشن کی رائے تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہوگی، آصف زرداری کیس میں بھی جج کی آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی، آڈیو ٹیپ باضابطہ طور پر پیش نہ کرنے پر عدالت نے مسترد کر دی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.