Universal News Network
The Universal News Network

بھارت کو آرٹیکل 370میں تر میم کر نا الٹا پڑ گیا

28

ہندوستان کے پارلیمنٹ میں آرٹیکل370 میں ترمیم کے نتیجے میں جموں و کشمیر کو اب ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا۔

ترمیم میں جہاں کشمیر کے خصوصی قانون (پشتنی باشندگی قانون یا اسٹیٹ سبجیکٹ رول) کو ختم کیا گیا وہیں ریاست جموں و کشمیر کے اس حصے کو تقسیم کر کے مرکز (دہلی) کے زیرِ انتظام دو علاقے بنائے گئے ہیں جن میں سے ایک کا نام جموں و کشمیر اور دوسرے کا لداخ ہے اور ان اب دونوں علاقوں کا انتظام و انصرام لیفٹیننٹ گورنر چلائیں گے۔جموں کشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہو گی تاہم لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔

جموں وکشمیر کا اپنا آئین اب ختم ہوجائے گا۔آرٹیکل 370کی صرف ایک شق کو برقرار رکھا گیا ہے جس کے مطابق صدرِ ہند تبدیلی اور حکم جاری کرنے کے مجاز ہوں گے۔اس کے علاوہ اب جموں و کشمیر کے داخلہ امور وزیراعلی کی بجائے براہِ راست وفاقی وزیرِ داخلہ کے تحت آ جائیں گے جو لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے انھیں چلائے گا۔لداخ کو بھی مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ انڈیا کے تمام مرکزی قوانین جو پہلے ریاستی اسمبلی کی منظوری کے محتاج تھے اب علاقے میں خودبخود نافذ ہو جائیں گے۔

اسی طرح انڈین سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق بھی اب براہِ راست ہو گا۔جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی مدت بھی چھ کے بجائے پانچ برس ہو جائے گی۔ کشمیر میں خواتین کے حوالے سے جو روایتی قوانین نافذ تھے وہ ختم ہو جائیں گے۔وفاقی حکومت یا پارلیمان فیصلہ کرے گی کہ جموں و کشمیر میں تعزیراتِ ہند کا نفاذ ہوگا یا پھر مقامی آر پی سی نافذ رہے گا۔ ہندوستان کے دونوں ایوانوں سے قانون پاس ہونے کے بعد ریاست میں انتظامی سطح پر فوری طور پر جو عملی اقدام دیکھنے کو ملا، وہ یہ تھاکہ سول سیکریٹریٹ ، صوبائی کمشنر، ضلع ترقیاتی کمشنر اور دیگر سرکاری دفاتر جہاں جہاں بھارت کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کا پرچم موجود تھاوہاں سے جموں وکشمیر کا پرچم اتار دیاگیاہے۔خصوصی حیثیت کے خاتمے سے قبل جموں کشمیر کی ہند نواز سیاسی قیادت سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور انہیں سرکاری گیسٹ ہاؤس ہری نواس میں رکھا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.