Universal News Network
The Universal News Network

بھارت: کرونا مریضوں کو دروازے کے باہر سے کھانا پھینک کر دیا جانے لگا

India: Corona patients began to be thrown food out of the door

15

بھارتی سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص حفاظتی لباس پہنے ایک دروازے کے اندر کھانے کا سامان اور پانی کی بوتلیں پھینک رہا ہے اور دروازے کے دوسری طرف کھڑے افراد اسے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ ویڈیو مبینہ طور پر آگرہ کے ہندوستان کالج کی ہے جسے مقامی انتظامیہ نے قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کردیا ہے۔

مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ اس قرنطینہ میں اسی طرح سے کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ آگرہ کے ضلع مجسٹریٹ پربھو نارائن سنگھ نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ کچھ روز پہلے پیش آیا تھا تاہم اب صورتحال مختلف ہے۔

مجسٹریٹ کے مطابق واقعے کے بارے رپورٹ مرتب کی جارہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سینٹر میں 500 سے زائد افراد رہ رہے ہیں تاہم ایک مقامی ہیلتھ افسر نے وہاں رہنے والے افراد کی تعداد 130 بتائی۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اونیش کمار اوستھی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، کھانا تقسیم کرنے میں کچھ دیر ہوئی تھی جس کی وجہ سے افراتفری کی صورتحال پیش آئی۔

خیال رہے کہ آگرہ میں کرونا وائرس کی صورتحال نہایت خراب ہے، آگرہ کے میئر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شہر میں ووہان جیسی صورتحال ہوسکتی ہے کیونکہ مقامی انتظامیہ نہایت ناکارہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہاٹ اسپاٹ ایریا میں بنائے گئے قرنطینہ سینٹروں میں کئی کئی دنوں تک جانچ نہیں ہو پا رہی، نہ ہی مریضوں کے لیے کھانے پانی کا مناسب انتظام کیا جارہا ہے۔

میئر نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ میرا آگرہ بحران سے گزر رہا ہے۔ آگرہ کو بچانے کے لیے سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے، حالات بہت سنگین ہو چکے ہیں۔ میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کر رہا ہوں کہ میرے آگرہ کو بچا لیجیئے۔

دوسری جانب آگرہ سمیت پورے بھارت میں اب تک کرونا وائرس کے 31 ہزار 332 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.