Universal News Network
The Universal News Network

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

29

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر میاں خیل پر مشمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی جب کہ اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان اور آرمی چیف کے وکیل فروغ نسیم نے عدالت میں دلائل دیے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سمری میں سپریم کورٹ کا ذکر کیوں کیا،یہ غلط بات ہے۔ نئی سمری سے یہ تاثر مل رہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ایسا کریں.آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں. سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں.تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے. اٹارنی جنرل نے کہا کہ دستاویزات کچھ دیر میں پہنچ جائیں گی،آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کر دی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہونے والی تعیناتی پہلے سے کیسے مختلف ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نئی تعیناتی 243 (1) بی کے تحت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپکو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا ،اب ہونے والی تعیناتی درست کیسے ہے

چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی اور توسیع کا عمل صاف اور واضح ہونا چاہئے، آرمی ریگولیشنز کی کتاب کو چھپا کر کیوں رکھا گیا۔ اس کتاب پر لکھا ہے کوئی غیر متعلقہ شخص پڑھ نہیں سکتا، کیوں اس کتاب کو سینے سے لگا کر رکھا ہوا تھا، آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے، تعیناتی ہوئی ہی آئین کے مطابق ہے۔ عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں ، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے۔ جسٹس منصور نے کہا کہ 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں ہے۔ سمری میں آرمی چیف کی تنخواہ کا ذکر ہے نہ مراعات کا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا،کوئی دیکھ نہیں رہا کہ کیا ہو رہا ہے، کس قانون کے تحت کوئی کام ہو رہا ہے، اب آئینی ادارہ اس مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے، آئینی عہدے پر تعیناتی کا طریقہ کار واضح لکھا ہونا چاہیے۔ مدت نوٹیفکیشن میں 3 سال لکھی گئی ہے،اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، 3 سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.